Saturday, August 18, 2012

رؤیت ہلال کا مسئلہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک تجزیہ



مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمٰن صاحب نے باضابطہ طور پر اعلان کر دیا ہے کہ شوال المکرّم کا چاند نظر نہیں آیا ہے لہٰذا عید الفطر پیر کے روز ہوگی۔ ان سے حسب معمول اختلاف کرتے ہوئے مسجد قاسم علی خان پشاور کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے اپنی مسجد میں غیر سرکاری طور پر بٹھائی گئی ایک کمیٹی میں مبینہ طور بیس دستیاب شہادتوں کی بنا پر یہ اعلان کیا ہے کہ شوال المکرّم کا چاند نظر آ گیا ہے اور عیدالفطر آج بروز اتوار ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی پشاور میں حکومتی سطح پر قائم کی گئی رؤیت ہلال کی زونل کمیٹی نے مرکزی کمیٹی سے اس بنا پر اختلاف کیا ہے کہ زونل کمیٹی کو اٹھارہ شہادتیں موصول ہوئی تھیں اور مرکزی کمیٹی نے ان کی شہادتوں کو جانچے بغیر ہی اجلاس ختم کر کے اتوار کے روزے کا اعلان کر دیا۔ خیبر پختونخواہ میں قائم اے این پی کی حکومت نے مسجد قاسم علی خان کمیٹی اور زونل کمیٹی کی رائے کا ساتھ دیتے ہوئے حسبِ روایت سینٹر بشیر بلور کی زبانی یہ اعلان کرایا ہے کہ وہ مقامی علما کے ساتھ اتوار کو عید کریں گے۔ جبکہ محکمہ موسمیات نے سائنسی بنیادوں پر وضاحت کی ہے کہ ہفتہ کی شام کو چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ محکمہ کے مطابق چاند کی پیدائش کو پچیس گھنٹے گزرے ہیں اور جب تک چاند تیس گھنٹے کا نہ ہو نظر آنے کا امکان نہیں ہوتا۔ محکمہ موسمیات نے واضح کیا کہ ہفتہ کو انسانی آنکھ تو کیا آلات کی مدد سے بھی چاند کا نظر آنا نا ممکن ہے۔ ایسا گذشتہ چند سال سے مسلسل ہوتا آ رہا ہے۔ چنانچہ پشاور شہر میں گذشتہ کئی سال سے دو عیدیں منائی جاتی ہیں۔ سرکاری طور پر عید ایک دن پہلے مسجد قاسم علی خان کمیٹی کی تقلید میں منائی جاتی ہے جبکہ شہر میں متعدد مساجد میں عید کی نماز مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق دوسرے دن پڑھائی جاتی ہے۔ مفتی پوپلزئی نے ہفتے کی رات میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس بیس شہادتیں جمع ہوئی تھیں لہٰذا وہ اتوار کی عید کا اعلان کرتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ حرمین میں عید ہو تو ہمیں بھی عید کرنی چاہیے۔ مفتی منیب الرحمٰن جو کہ جمہور کی نمائندگی کرتے ہیں نے واضح کہا ہے کہ شرعی طور پر کافی شہادتوں کے موصول نہ ہونے کی بنا پر اتوار کو روزہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ رؤیت ہلال جیسے معاملے کے لیے اٹھارہ بیس شہادتوں کی دستیابی شرعی طور پر کافی ہے کہ نہیں۔ قارئین کو معلوم ہوگا کہ چاند آسمان پر طلوع ہوتا ہے اور ملک کے طول و عرض میں لاکھوں لوگ عام طور پر اور ہزاروں سرکاری طور پر چاند دیکھنے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر چاند نظر آئے تو وہ بہت زیادہ تعداد میں لوگوں کو دکھائی دیتا ہے۔ اس بنا پر علما کی رائے یہ ہے کہ چاند کی رؤیت کے لیے موصول ہونے والی شہادتیں جب تک حدِ تواتر کو نہیں پہنچ جاتیں اس وقت تک اس کو یقینی نہیں مانا جا سکتا۔ بیس شہادتیں تو انتہائی ناکافی ہیں اور شہروں اور دیہاتوں کی آبادیوں کے تناسب کے لحاظ سے تو بالکل بے معنی ہیں۔ چاند کی رؤیت کی شہادت صاف مطلع کے علاقوں سے اس طرح موصول ہو کہ دس بیس شہروں میں سینکڑوں لوگوں کی شہادت ملے تو شہادت حدِ تواتر کو پہنچ جاتی ہے۔ جب کہ جن علما نے جمہور سے اختلاف کیا ہے اپنے بیانات کی روشنی میں وہ خود اس مسئلہ میں ابہام کا شکار ہیں۔ ایک طرف تو وہ کہتے ہیں کہ حرمین کے ساتھ عید کرنی چاہیے دوسری طرف وہ اس کے لیے مقامی طور پر شہادتیں بھی اکٹھی کرتے ہیں۔ پہلے تو انہیں عوام پر یہ واضح کرنا چاہیے کہ وہ اتوار کی عید حرمین کی تقلید میں کر رہے ہیں یا دستیاب اٹھارہ شہادتوں کی بنا پر۔ اگر حرمین کی تقلید میں کر رہے ہیں تو شہادتوں کا اکٹھا کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا اور اگر حرمین کی تقلید میں نہیں بلکہ دستیاب شہادتوں کی وجہ سے کر رہے ہیں تو اس مقصد کے لیے یہ شہادتیں ناکافی ہیں۔ طلوعِ ہلال افق آسمان پر ہوتا ہے اس کے لیے ہزاروں لوگوں کی شہادتیں لازم ہیں۔ یہ گلی محلے میں وقوع پذیر ہونے والا کوئی واقعہ نہیں جو چند شہادتوں کی بنا پر فیصل ہو جائے۔

(تحریر: ظہیر باقر بلوچ)

Sunday, June 17, 2012

خوشاب: لوڈ شیڈنگ اور پانی کی عدم دستیابی کے خلاف عوام کا شدید احتجاج۔ ایم این اے اور ایم پی اے بھی نمبر بنانے جا پہنچے۔ عوام کا ممران اسمبلی پر عدم اعتماد جلوس منتشر کر دیا۔


خوشاب (ظہیر باقر بلوچ) گذشتہ تین ماہ سے تاریخ کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ اور
پانی کی مسلسل عدم دستیابی کے ستائے ہوئے شہری آج کثیر تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ٹریفک جام کرکے اور ٹائر جلا کر وفاقی حکومت اور مقامی انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ انجمن باڈی میکراں سرگودھا روڈ کی طرف سے دی گئی اس احتجاجی کال پر لبیک کہتے ہوئے سرگودھا روڈ کے اکثر دکاندار اور ملحقہ آبادیوں کے شہریوں کی بڑی تعداد نے جلوس میں شرکت کی اور کشمیر چوک (پرانا کٹھہ چوک) پر کم و بیش دو گھنٹے تک ٹریفک بلاک رکھی ٹائر جلائے اور وفاقی اور مقامی انتظامیہ کی غفلت اور فرض نا شناسی کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ جب شہریوں کا احتجاجی جلوس کلمہ چوک پہنچا تو مقامی ایم این اے ملک شاکر بشیر اعوان اور ایم پی اے ملک آصف بھا بھی جلوس میں شامل ہو گئے۔ لیکن عوام ممبران اسمبلی پر عدم اعتماد کر اظہار کرتے ہوئے جلوس ختم کر کے گھروں کو روانہ ہو گئے۔ جلوس میں شرکت کرنے والے شہریوں سے جب اس رویے کے متعلق پوچھا گیا تو لوگوں نے کہا کہ ان ممبران اسمبلی کا عوامی احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہونا چاہیے کیوں کہ اگر یہ لوگ اپنی اپنی اسمبلیوں میں ہمارے مسائل کے متعلق آواز اٹھاتے تو آج معاملات یہاں تک نہ پہنچتے۔ ایم این اے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خوشاب میں ہونے والی ظالمانہ لوڈ شیڈنگ خلاف آواز اٹھانی چاہیے عوام یہ احتجاج ہی انہیں لوگوں کے خلاف کر رہے ہیں یہاں ان کی شرکت کوئی معنی نہیں رکھتی۔   ایک شہری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خوشاب شہر میں گذشتہ تیس سال سے واٹر سپلائی کے پائپ نہیں بدلے گئے۔ پرانے بوسیدہ پائپ جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے جب کبھی شہریوں کو پانی دیا مہیا کیا بھی جاتا ہے تو وہ بدبو دار اور بد رنگ ہوتا ہے۔ جو شرعی طہارت کے بھی کام نہیں آتا۔ ایم پی اے صاحب نے آج تک صوبائی اسمبلی میں اس کے خلاف آواز  بلند نہیں کی عوام نے یہ احتجاج اس لیے نہیں کیا کہ ممبران اسمبلی یہاں نمبر بنانے آ جائیں۔ یہ احتجاج در حقیقت انہیں لوگوں کے رویوں کے خلاف ہے۔ 

Monday, June 4, 2012

معروف شاعر اور مزدور اسلم ساغر چشتی مکہ کول مائن میں دم گھٹنے سے جاں بحق



خوشاب (ظہیر باقر بلوچ) خوشاب کوہستان نمک کے دامن میں واقع مکہ مائنز میں کام
کے دوران گیس سے دم گھٹنے کی وجہ سے خطہ کے معروف اردو و پنجابی شاعر اسلم چشتی جاں بحق ہو گئے جبکہ ان کے دو مزدور ساتھی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ حادثے کا شکار ہونے والے زخمیوں کو سول ہسپتال جوہرآباد پہنچا دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مکہ مائنز پی ایم ایل این کے ایم این اے ملک شاکر بشیر اعوان کی خاندانی ملکیتی ہے۔ 

Sunday, March 18, 2012

Latest News: مسلم ن آئندہ انتخابات کے لیے ٹکٹیں سوچ سمجھ کر جاری کرے ۔۔۔ تجزیہ: ظہیر باقر بلوچ

Latest News: مسلم ن آئندہ انتخابات کے لیے ٹکٹیں سوچ سمجھ کر جاری کرے ۔۔۔ تجزیہ: ظہیر باقر بلوچ...: آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹنگ پالیسی کیا ہونی چاہیے۔ اس سوال کے جواب کے لیے موجودہ ارکان پنجاب اسمبلی کی کارکردگی کا بغور جائزہ لی...

مسلم ن آئندہ انتخابات کے لیے ٹکٹیں سوچ سمجھ کر جاری کرے۔ (تجزیہ: ظہیر باقر بلوچ) ۔


مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنی ناقص پالیسیوں کے باعث اپنے منشور کے بر خلاف پنجاب میں تھانہ سیاست کے دروازے ایم پی ایز پر بالواسطہ طور پر  کھول دیے ۔
جن ممبران اسمبلی نے اضلاع کی سطح پر کرپشن سے با خبر ہوتے ہوئے اس سے چشم پوشی کی انہیں ٹکٹ جاری نہ کیے جائیں۔
 آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹنگ پالیسی کیا ہونی چاہیے۔ اس سوال کے جواب کے لیے موجودہ ارکان پنجاب اسمبلی کی کارکردگی کا بغور جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔ پاکستان کے ممکنہ طور پر آخری فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید  اور میاں نواز شریف فیملی کو پاکستان میں واپس بلا کر یہاں کی سیاست میں کردار ادا کرنے کی اجازت دی گئی تو مسلم لیگ ن اگرچہ اپنے اصولی موقف کی وجہ سے مقبول جماعت تھی۔ اور پنجاب میں ان کا اقتدار میں آ جانا واضح نظر آ رہا تھا۔ چونکہ پارٹی تتر بتر ہو چکی تھی اور ان کے سابقہ ہم جماعتوں کی اکثریت مسلم لیگ ق میں جا چکی تھی۔ اور پنجاب سے بڑی تعداد میں معقول اور با اعتماد دوست مزاج امیدواروں کا انتخاب یقینی طور پر ایک مسئلہ تھا۔ ادھر پنجاب بھر سے نئے مفاد پرست جو پنجاب میں مسلم لیگ ن کا اقتدار چشم تصور سے دیکھ رہے تھے جوق در جوق ٹکٹوں کے حصول کے لیے مسلم لیگ کی طرف رجوع کرنے لگے۔ اس دوران مسلم لیگ ن نے کرائٹیریا یہ رکھا کہ جس نے مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا ہے اس کو ٹکٹ جاری نہ کیا جائے۔ لیکن برا ہو اس خاندانی سیاست کا سیاسی اب جن لوگوں نے ٹکٹوں کے حصول کے لیے اپلائی کیا ان میں اکثر ان لوگوں کےرشتہ دار تھے۔ جنہوں نے سابقہ دور میں مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا۔ بنیادی طور پر مسلم لیگ ن کی یہ پالیسی غلط تھی۔ انہیں چاہیے تھا کہ مسلم لیگ ق سے جو لوگ واپس آ رہے تھے انہیں قبول کرتے اس طرح انہیں پرانے تجربہ کار پارلیمینٹیرینز کی کثیر تعداد میسر آتی جو مسلم لیگ ن کی قیادت یعنی میاں صاحبان کے مزاج سے بھی بخوبی واقف ہوتے اور رواں دور میں شروع ہی سے مسلم لیگ ن کا امیج بڑھانے کے لیے کوشاں رہتے۔ جبکہ جو نئے لوگ پارٹی میں آئے  وہ پارٹی پالیسی تو کیا جمہوری مزاج سے بھی پورے طور پر آشنا نہیں تھے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ جو اپنے سابق دور میں بڑے کامیاب ایڈمنسٹریٹر کے طور پر مشہور ہوئے تھے۔ اس دور میں اپنی شہبازانہ قیادت کا لوہا منوانے میں ناکامیاب نظر آئے۔ اس کی وجوہات جو بھی ہوں اس سلسلہ میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے ان غلط انتظامی فیصلوں کا یہاں ذکر ضروری ہے۔ میاں شہباز شریف کے سابقہ دور میں پولیس مقابلوں کی بڑی شہرت تھی۔ یہ بات مشہور تھی کہ میاں صاحب نے پولیس کو ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ بڑے جرائم میں ملوث عادی مجرمان کو بجائے عدالتی کارروائی میں ڈالنے کے بالا ہی بالا پار کر دیا جائے۔ نہ جانے اس میں کہاں تک صداقت ہے مگر اس دور میں اکثر بدمعاش پولیس سے مقابلہ کرتے ہوئے مارے جاتے تھے اور ارتکاب جرائم کی شرح میں واضح کمی آئی تھی۔ چنانچہ جب مسلم لیگ ن کی حکومت پنجاب میں بنی تو پولیس مقابلوں میں یکسر اضافہ ہو گیا۔ مگر بے باک میڈیا کے اس دور میں یہ وار جرائم کا ارتکاب روکنے کے حوالے سے کارگر ثابت نہ ہو سکا۔ میاں شہباز شریف صاحب نے آتے ساتھ ہی پنجاب پولیس کی تنخواہوں میں ۱۰۰ فیصد اضافہ کا نوٹس جاری کر دیا اس نیک کام کے نیک مقاصد اسی صورت میں حاصل کیے جا سکتے تھے کہ جب پنجاب کے اقتدار پر مسلم لیگ ن کی گرفت مضبوط ہوتی جبکہ حالت یہ تھی کہ دو ایم پی اے مل کر آسانی سے حکومت کو بلیک میل کر سکتے تھے۔  چنانچہ مرکز کی سطح پر انصاف، دیانتداری اور شفاف طرز حکومت کا ڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود مسلم لیگ ن کی بدولت کرائم ، قبضہ اور سٹاک مافیا کے ہاتھوں  لوٹ مار، جرائم اور ناانصافی کی انتہائی وحشتناک مثالیں دیکھنے میں آئیں۔ پولیس مقابلوں کی مبینہ کھلی چھٹی کی وجہ سے پولیس میں موجود  بعض جرائم پسند عناصر کے ہاتھوں بربریت کی اندوہ ناک تصویریں اور کہانیاں اخبارات نے شائع کیں۔ وزیر اعلٰی پنجاب میاں نواز شریف سے جب بھی پنجاب میں ہونے والی کرپشن اور جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے ہمیشہ یہی کہہ کر ٹال دیا کہ پنجاب میں دوسرے صوبوں کے مقابلے کم ہے نیز انہوں نے ضلعی سطح کے افسران تو ایماندار لگا رکھے ہیں نچلی سطح پر کرپشن ہو تو کہا نہیں جا سکتا۔ یہ جواب اس شخص کا ہے جو نچلی سطح پر ہونے والی چھوٹی سے چھوٹی سے کرپشن پر بے چین ہو جایا کرتا تھا اسے سن کر حیرت سے زیادہ دکھ ہوتا ہے اور دکھ سے زیادہ حیرت۔۔۔۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے منشور کے بر خلاف پنجاب میں تھانہ سیاست کے دروازے بالواسطہ طور پر ایم پی ایز پر کھول دیے اس زہرناک پالیسی نے سٹلائیٹ میڈیا کے اس دور میں پنجاب میں اضلاع کی سطح پر ادوارِ جاہلیت جیسی ایسی مثالیں دیکھنے کو ملیں کہ جنہیں دہرانا بھی حساس طبیعت پر بارمحسوس ہوتا ہے۔ اس وقت پنجاب اسمبلی کے خزانے کے بنچوں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو سابقہ سیاسی تجربہ نہیں رکھتے۔ جو تھانے کچہری کی اور انتقامی سیاست کے عادی ہو چکے ہیں۔ چنانچہ اگر مسلم لیگ ن اس دفعہ ٹکٹوں کے اجرا کے لیے انتہائی غور و فکر سے کام نہ لے گی اور بغیر سوچے سمجھے پنجاب اسمبلی میں بیٹھے لوگوں کو ایک پالیسی کے تحت ٹکٹ جاری کر دے گی تو پنجاب میں بڑے پیمانے پر اپ سیٹس کا امکان ہے۔ اس ضمن میں مسلم لیگ ن کو چاہیے کہ تمام اضلاع سے نچلی سطح پر کرپشن کی رپورٹیں منگوائے اور جہاں جہاں دورِ جاہلیت کی مثالیں نظر آئیں ان حلقوں کے موجودہ ایم پی ایز اور ایم این ایز کو دوبارہ ٹکٹ جاری کرنے سے بے دھڑک انکار کر دے۔ یہی مسلم لیگ ن کا حقیقی منشور ہے اور اسی میں مسلم لیگ ن کی بقا کا راز مضمر ہے۔

Tuesday, December 13, 2011

امریکی مفادات، جمہوریت اور پاک فوج ( 2: گذشتہ سے پہوستہ)۔۔۔۔۔ تحریر: ظہیر باقر بلوچ

اور یہ سب کچھ پاک فوج کی ذمہ داریوں میں سے تھا۔ یعنی دفاع وطن کا حصہ تھا۔ چنانچہ فوج نے اس خدمت کو بخوبی نبھایا۔ اگر امریکہ کے دفاعی اداروں کو معلومات کی فراہمی کے لیے امریکی جاسوسی اداروں کے لیے کام کرنے والے افراد خواہ حکومت کو دھوکہ دے کر ہی پاکستان آئے ہوں لیکن پاک آرمی کے لیے ان جب اے جمہوری حکومت بحال ہوئی ہے پاکستان طرح طرح کی افواہوں کی مسلسل زد پر رہا ہے۔ اور ان افواہوں کے پھیلانے میں موبائل فون سمیت رابطے کے دیگر جدید ذرائع کو استعمال کیا گیا۔ کچھ عرصہ قبل تک بعض انتہائی تکلیف دہ، مایوس کن اور بے چین کر دینے والے مسیجز موصول ہوتے تھے جن کو پڑھتے ہی جن میں بین السطور بظاہر اور بالواسطۃ طور پر اداروں کو بدنام کیا جاتا۔ مجھے ایک میڈیکل کی ہونہار طالبہ کا میسیج موصول ہوا جس میں لکھا گیا تھا کہ پڑوسی ملک کے کسی غیر معروف مقام پر کسی نے نعوذباللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کر دی ہے۔ اس سے آٓگے جو بات لکھی گئی تھی وہ اس سے بھی زیادہ خطرناک تھی جس میں لوگوں سے مخاطب کر کے خالصتا مشتعل کرنے کے انداز میں یہ لکھا گیا تھا کہ اٹھو اور اسلام کے دشمنوں پر ٹوٹ پڑو کل حضور کو کیا منہ دکھاؤ گے کہ تمہارے سامنے حضور کی گستاخی ہوتی رہی اور تم  گھروں میں بیٹھے۔ میں نے اس طالبہ کو سمجھایا کہ یہ اشتعال انگیزی ایک ایسے مفروضے کی بنیاد پر پھیلائی جارہی ہے جو مفروضہ تصدیق کے مراحل سے بھی نہیں گزرا۔ پھر معاملہ رسول اللہ کی ذات گرامی کا ہے جس میں بات آگےکرنے کے ضمن میں تصدیق کرلینا از حد ضروری ہے۔ ورنہ انسان جھوٹ کا مرتکب ہو جاتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے متعلق عمدا جھوٹ بولنے والا ایمان کی دولت سے محروم ہو جاتا ہے۔ طویل لوڈ شیڈنگ، ہوشربا مہنگائی، المناک دہشتگردی کے واقعات گھرائی، بوکھلائی اور بولائی ہوئی قوم کے سادہ لوح افراد کو جب پیغامات موصول ہوں گے کہ جن میں انہیں روحانی جذبات کو شدید دھچکا پہنچانے کے لیے ان کی  عقیدتوں محبتوں اورعظمتوں کے محور و مرکز کے حوالے سے انہیں برانگیختہ کیا جائے گا۔تو اس قوم کا کیا حال ہوگا۔ کتنے بھیانک نتائج سوچ کر ایسی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں۔ مگر بحدہِ تعالٰی دشمنوں کی یہ سازشیں کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکیں۔ اور پاکستانی عوام نے بر انگیختہ نہ ہو کر ہر ادارے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ آج الحمد للہ پاکستان اس مقام پر کھڑا ہے کہ ملکی حدود اور خود مختاری کی خلاف ورزی کرنے پر سپر پاور کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہا ہے۔ آج پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ کا صلہ مانگ رہا ہے۔ راقم الحروف نے آج سے بہت پہلے ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد ملک کے ایک مؤقر روزنامہ میں چھپنے والے ایک تجزیہ میں یہ لکھا تھا کہ پاکستان کے ہاتھ ایک ایسا طوطا آیا ہے جس میں انکل سام کی جان ہےاور یہ کہ ریمنڈ ڈیوس سے ایسی معلومات حاصل ہوئی ہیں جس دہشت گردی کا نیٹ ورک مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ امریکہ پاکستان کے آگے ننگا ہو جائے گا۔ پاک امریکہ تعلقات میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔ اور ایسے مواقع آئیں گے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہونے والی جنگ کے نتیجے میں اٹھانے پڑے نقصانات کے جائز ازالے کا مطالبہ کرے گا۔ اپوزیشن تو حسب عادت یہی کہہ رہی ہے کہ حکومت نے بعد دیر میں خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ حالانکہ پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی گذشتہ چھ ماہ سے جاری تھی۔ اصل میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ امریکی منصوبہ ساز اپنے منصوبوں کی مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں اور اوچھی کارروائیوں پر اتر آئے ہیں۔ میمو گیٹ سکینڈل اچھالنے کا مقصد اندرونی عدم استحکام پیدا کرنا تھا حکمرانوں کوغدارقرار دلوانے اور فوج کو مشتعل کر کے بارکوں سے باہر لانے کے حوالے سے اسے ایک ایسا اقدام تھا جسے فیصلہ کن سمجھا گیا تھا میمو گیٹ سکینڈل کے اثرات توقع کے عین مطابق نکلے کہ مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف خود عدالت میں پیش ہوئے اور اس معاملہ کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں بلانے کام مطالبہ کر دیا۔ ساتھ ہی ساتھ مسلم لیگ ن نے یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ پالیمنٹ بے اثر ہو چکی ہے قبل ازوقت انتخابات کروائے جائیں ۔ یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ حکومت آج گئی کہ کل۔ اسی دوران حکومت کوکمزور پا کر دشمن نے سرحدی چوکی پر حملہ کرکے کئی فوجیوں کو شہید کر دیا ان خیال شاید یہ تھا کہ حکومت کے کمزور ہونے کی وجہ سے فوج اقتدار پرقبضہ کر لیگی تاکہ ملک کا دفاع بہتر طور پر کیا جاسکے  لیکن یہ ایک انتہائی بچگانہ خیال تھا۔ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے نے سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ اور قوم متحد ہو گئی۔ حکومت مضبوط ہو گئی۔ پارلیمنٹ بااثر ہو گئی۔ کچھ لوگ اب بھی اس بچگانہ خیال کا اطہارخواہش کی طرح کر رہے ہیں کہ امریکہ پاکستان پرحملہ کرے گا۔ ایں خیال است و محال است و جنوں۔ اس کام کی اجازت تو امریکہ کو اس کی پارلیمنٹ بھی نہیں دے گی۔ پھر قدیم امریکی پالیسی جو بھی رہی ہو اس کی تازہ تر پالیسییوں کے مطابق ایک منتخب جمہوری حکومت پر حملہ کرنا امریکہ کے لیے ممکن نہیں ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی خواہش کے باوجود وائیٹ ہاؤس میں بیٹھے ڈیموکریٹس اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے کہ پاکستان سے بگاڑی جائے۔ پھر نئی جنگ کا تو امریکہ متحمل ہر گز نہیں ہو سکتا ۔افغانستان میں رکھی ہوئی فوج کو امریکہ پاکستان کے خلاف ادتعمال کرنے کا جان جوکھوں کا کام ہر گز نہیں کرے گا۔ پھرامریکہ کی یہ خواہش ہو سکتی ہے کہ اپنی فوج کو کچھ عرصہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں رکھا جائے لیکن خواہش نا ممکن الحصول ہونے کی صورت میں اسے پاکستانی شرائط پر بھی اگر پاکستان کا تعاون حاصل کرنا پڑا تو وہ ضرور حآصل کرے گا۔ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے سے یہ ضرور ہوا ہے کہ مسلم لیگ ن کا قبل از وقت الیکشن کا مطالبہ بے اثر ہو گیا ہےاس سمبلی کے مدت پوری کرنے کے امکانات زیادہ قوی ہو گئے ہیں۔ سینیٹ کا الیکشن مسلم لیگ ن کو میدان میں لڑنا پڑے گا اور وہ بھی جنرل الیکشنز سے پہلے۔

Saturday, December 10, 2011

امریکی مفادات، جمہوریت اور پاک فوج۔۔۔۔۔۔ تحریر: ظہیر باقر بلوچ

یہ اب کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں ہے کہ امریکہ ایشیا کے وسطی، جنوبی اور جنوب مغربی حصے میں موجود بے پناہ قدرتی وسائل کے حصول کے لیے اس خطے میں آیا ہے۔ گذشتہ صدی میں سن ۸۰ کے عشرے میں جب روس نے افغانستان کی   سوشلسٹ حکومت کی طرف سے اندرونی شورشیں فرو کرنے کے لیے طلب کی گئی معاونت کے نتیجے میں افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کر دیں تو امریکہ نے پاکستان میں نئی نئی قائم ہونے والی فوجی حکومت کی مدد سے روس کے افغانستان سے انخلا کا پروگرام بنایا۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے امریکی مفکرین نے حکومت کو مشورہ دیا کہ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کو ہوا دی جائے اور جہاد کے نام پر اسرائیل کے خلاف برسرپیکار عرب جنگجوؤں کو افغانستان میں افغان اور روسی افواج کے خلاف استعمال کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے جنرل ضیاالحق کو استعمال کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل ضیاالحق نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہی اسلام نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اور شدت پسند اور فرقہ باز گروہوں کے نمائندوں کو حکومتی امور میں مداخلت کی کھلی چھٹی دی۔ ضیاالحق جب اقتدار پر قابض ہوا تو اس کا استقبال کرنے والوں میں جماعت اسلامی پیش پیش تھی۔  مردِ مومن  مردِ حق۔۔۔ ضیاالحق ضیاالحق کا استقبالی نعرہ جماعت اسلامی ہی کی جانب سے دیا گیا۔ امریکہ سے روپیہ آ آ کر شدت پسند مذہبی گروہوں کے سرغنوں کی جیبوں میں بھرنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان میں ایسی کئی تنظیمیں وجود میں آگئیں جو دوسرے مسالک کے مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگانے لگیں۔ جوق درجوق لوگ جہادِ افغانستان میں شرکت کرنے کے لیے افغانستان جاتے وہاں سے گوریلا لڑائی کی تربیت حاصل کرتے کچھ افغانستان میں افغان اور روسی افواج کے ساتھ لڑائی میں شریک ہوجاتے اور کچھ پاکستان واپس آکر یہاں فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے۔ ضیاالحق کی زیر نگرانی پاک آرمی کی کاوشوں سے روس افغانستان سے نکل گیا۔ اور اس کے بعد افغانستان میں افراتفری کا ایک نیا دور شروع ہو گیا۔ امریکہ کا پروگرام یہی تھا کہ افغانستان میں افراتفری رہے یا ایک ایسی حکومت ہو جو اسلام کے نام پر کچھ ایسے گل کھلائے جو پوری دنیا میں اسلام کو بھی بدنام کریں اور اپنی حرکتوں سے امریکہ کو خطے میں مداخلت کا جواز بھی فراہم کرے۔ یہ فرض طالبان نے بخوبی انجام دیا۔ عراق کویت جنگ کے نتیجے میں عرب علاقوں میں امریکی افواج کی آمد کے رد عمل کے طور پر وجود میں آنے والی القاعدہ افغانستان میں آکر امریکہ کی توجہ افغانستان کی طرف مبذول کرانےکا  فریضہ انجام دینے لگی۔ طالبان بعض ایسی حرکات کرنے لگے کہ جنہوں نے عالمی سطح پر اسلام کو بدنام کرنے کے ساتھ مغربی میڈیا کو اسلام اورطالبان پر کھلی تنقید کرنے کا موقع فراہم کیا۔ القاعدہ اور طالبان کی کارروائیوں نے پوری دنیا کی توجہ افغانستان کی طرف مبذول کرادی اور نائن الیون کے حملے نے امریکہ کو افغانستان میں پر حملے کا مضبوط جواز فراہم کر دیا۔ شومئی قسمت دیکھیے کہ اس حملہ سے عین پہلے اس وقت کا پاکستانی جرنیل پرویز مشرف منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر چکا تھا۔ افغانستان پر امریکی حملے کا ظاہری مقصد افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز، طالبان اور القاعدہ کا خاتمہ تھا۔ افغانستان پر حملے سے پہلے انہوں نے بذریعہ پاکستان افغانستان میں طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن طالبان کی جانب سے اسامہ حوالے نہ کرنے پر ڈٹ جانے کی وجہ سے امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہو گیا۔ یہ تو ظاہری اسباب تھے لیکن جیسا کہ بعد ازاں کے امریکی اقدامات اور افغانستان سے افواج کے انخلا کو مختلف حیلوں سے ٹالنے سے ظاہر ہوا کہ امریکہ یہاں کے قدرتی وسائل کے متعلق مکمل جغرافیائی معلومات اکٹھا کرنے، ان معدنی وسائل کو اپنے استعمال میں لانے کی غرض سے یہاں اپنا جاسوسی نیٹ ورک قائم کرنے کے لیے یہاں آیا تھا۔ اب جبکہ طاہری مقصد یعنی اسامہ بن لادن ہلاک ہو چکا ہے پھر بھی امریکہ یہاں سے جانے میں لیت و لعل کا مظاہرہ کر رہا ہے اور مخلتف حیلوں اور بہانوں سے پاکستانی علاقوں میں داخل ہونے کے لیے بے سر و پا اور اوچھی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ پس پردہ مقاصد کی تکمیل ابھی نہیں ہو سکی ہے۔ افغانستان میں جب امریکی افواج داخل ہوئی تھیں اس وقت امریکہ میں ری پبلکن پارٹی بر سر اقتدار تھی۔ اب جبکہ اس جنگ کو ختم کرنے کا اخلاقی موقع آن پہنچا ہے امریکہ میں ڈیموکریٹس کی حکومت ہے۔ ڈیمو کریٹس جنگ کے جلد خاتمے کے حق میں ہیں جبکہ امریکی محکمہ دفاع ابھی اس جنگ کو طول دینا چاہتا ہے اور اس کا دائرہ کار پاکستان تک بڑھانا چاہتا ہے۔ مگر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اس کے عزائم  کی راہ میں سب سے  بڑی رکاوٹ ہے۔ چنانچہ جب مشرف ایک زبردست عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار چھوڑ کر ملک سے باہر گیا اور یہاں جمہوریت بحال ہوئی تونئی حکومت کے سامنے سب سے پہلے جو مطالبہ امریکہ کی طرف سے رکھا گیا وہ آئی ایس آئی کا دائرہ کار محدود کرنے کے متعلق تھا۔ ادارے کو فوج کی نگرانی سے نکال کر سول حکومت کی نگرانی  لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جس پر عمل کرنے کا عندیہ وزیراعظم گیلانی نے دے دیا تھا لیکن پھر انہیں اس دعوے سے فورا ہی رجوع کرنا پڑا۔ جب امریکہ کو یہاں دال گلتی نظر نہ آئی تو موجودہ حکومت میں بعض کلیدی عہدوں پر فائز لوگوں کی مدد سے پاکستان میں کثیر تعداد میں امریکیوں کو لا کر بڑے شہروں میں ٹھہرانے  کا پروگرام بنایا گیا۔ اتنی بڑی تعداد میں امریکی پاکستان لائے گئے کہ ہر طرف سے بلیک واٹر کا شور بلند ہونا شروع ہو گیا۔ عوامی جذبات کے ترجمان رہنما احتجاج کرنے لگے۔ ادھر امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی دھڑا دھڑ امریکیوں کو ویزے جاری کر کے پاکستان بھجوا رہے تھے تو ادھر پاک آرمی اور آئی ایس آئی آنے والے امریکیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھی۔ مختلف شعبوں میں تکنیکی ماہرین اور نہ جانے کس کس زمرے میں شامل ہو کر پاکستان آنے والے ان امریکی جاسوسوں کا مقصد پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ  دینا، اداروں پر سے عوام کے متزلزل اعتماد کو مکمل طور پرختم کرنا۔ مختلف مکاتب فکر، مسالک اور لسانی و علاقائی گروہوں کو آپس میں لڑانا اور فوج سے برسرپیکارکرنا تھا۔ انہیں جاسوسوں میں سے ایک ریمنڈ ڈیوس بھی تھا پاکستانی سیکورٹی اداروں کی کڑی نگرانی سے بوکھلا کر دوشہریوں کو قتل کر بیٹھا اور پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ ریمنڈ ڈیوس سے برآمد ہونے والے ریکارڈ اور معلومات سے یہ ظاہر ہو گیا کہ سفارت کار کے روپ میں وہ ایک جاسوس تھا جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے جیسی مذموم سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد سی آئی اے اور آئی ایس آئی میں جاری سرد جنگ کھل کر سامنے آگئی۔  جس سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئیں۔ پاک فوج اور بالخصوص سیکورٹی اداروں کے لیے یہ گہرے امتحان کے دن تھے انہیں بیک وقت کئی محاذوں پر لڑنا پڑا۔ امریکی سازشوں کا مقابلہ کرنا۔ دہشت گردوں کی طرف سے ہونے والے رقیق حملوں کا مقابلہ کرنا اور انہیں ختم کرنا اور سول حکومت میں امریکی عزائم کی راہ ہموار کرنے والے عناصر پر نظر رکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    جاری ہے