یہ اب کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں ہے کہ امریکہ ایشیا کے وسطی، جنوبی اور جنوب مغربی حصے میں موجود بے پناہ قدرتی وسائل کے حصول کے لیے اس خطے میں آیا ہے۔ گذشتہ صدی میں سن ۸۰ کے عشرے میں جب روس نے افغانستان کی سوشلسٹ حکومت کی طرف سے اندرونی شورشیں فرو کرنے کے لیے طلب کی گئی معاونت کے نتیجے میں افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کر دیں تو امریکہ نے پاکستان میں نئی نئی قائم ہونے والی فوجی حکومت کی مدد سے روس کے افغانستان سے انخلا کا پروگرام بنایا۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے امریکی مفکرین نے حکومت کو مشورہ دیا کہ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کو ہوا دی جائے اور جہاد کے نام پر اسرائیل کے خلاف برسرپیکار عرب جنگجوؤں کو افغانستان میں افغان اور روسی افواج کے خلاف استعمال کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے جنرل ضیاالحق کو استعمال کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل ضیاالحق نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہی اسلام نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اور شدت پسند اور فرقہ باز گروہوں کے نمائندوں کو حکومتی امور میں مداخلت کی کھلی چھٹی دی۔ ضیاالحق جب اقتدار پر قابض ہوا تو اس کا استقبال کرنے والوں میں جماعت اسلامی پیش پیش تھی۔ مردِ مومن مردِ حق۔۔۔ ضیاالحق ضیاالحق کا استقبالی نعرہ جماعت اسلامی ہی کی جانب سے دیا گیا۔ امریکہ سے روپیہ آ آ کر شدت پسند مذہبی گروہوں کے سرغنوں کی جیبوں میں بھرنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان میں ایسی کئی تنظیمیں وجود میں آگئیں جو دوسرے مسالک کے مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگانے لگیں۔ جوق درجوق لوگ جہادِ افغانستان میں شرکت کرنے کے لیے افغانستان جاتے وہاں سے گوریلا لڑائی کی تربیت حاصل کرتے کچھ افغانستان میں افغان اور روسی افواج کے ساتھ لڑائی میں شریک ہوجاتے اور کچھ پاکستان واپس آکر یہاں فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے۔ ضیاالحق کی زیر نگرانی پاک آرمی کی کاوشوں سے روس افغانستان سے نکل گیا۔ اور اس کے بعد افغانستان میں افراتفری کا ایک نیا دور شروع ہو گیا۔ امریکہ کا پروگرام یہی تھا کہ افغانستان میں افراتفری رہے یا ایک ایسی حکومت ہو جو اسلام کے نام پر کچھ ایسے گل کھلائے جو پوری دنیا میں اسلام کو بھی بدنام کریں اور اپنی حرکتوں سے امریکہ کو خطے میں مداخلت کا جواز بھی فراہم کرے۔ یہ فرض طالبان نے بخوبی انجام دیا۔ عراق کویت جنگ کے نتیجے میں عرب علاقوں میں امریکی افواج کی آمد کے رد عمل کے طور پر وجود میں آنے والی القاعدہ افغانستان میں آکر امریکہ کی توجہ افغانستان کی طرف مبذول کرانےکا فریضہ انجام دینے لگی۔ طالبان بعض ایسی حرکات کرنے لگے کہ جنہوں نے عالمی سطح پر اسلام کو بدنام کرنے کے ساتھ مغربی میڈیا کو اسلام اورطالبان پر کھلی تنقید کرنے کا موقع فراہم کیا۔ القاعدہ اور طالبان کی کارروائیوں نے پوری دنیا کی توجہ افغانستان کی طرف مبذول کرادی اور نائن الیون کے حملے نے امریکہ کو افغانستان میں پر حملے کا مضبوط جواز فراہم کر دیا۔ شومئی قسمت دیکھیے کہ اس حملہ سے عین پہلے اس وقت کا پاکستانی جرنیل پرویز مشرف منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر چکا تھا۔ افغانستان پر امریکی حملے کا ظاہری مقصد افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز، طالبان اور القاعدہ کا خاتمہ تھا۔ افغانستان پر حملے سے پہلے انہوں نے بذریعہ پاکستان افغانستان میں طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن طالبان کی جانب سے اسامہ حوالے نہ کرنے پر ڈٹ جانے کی وجہ سے امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہو گیا۔ یہ تو ظاہری اسباب تھے لیکن جیسا کہ بعد ازاں کے امریکی اقدامات اور افغانستان سے افواج کے انخلا کو مختلف حیلوں سے ٹالنے سے ظاہر ہوا کہ امریکہ یہاں کے قدرتی وسائل کے متعلق مکمل جغرافیائی معلومات اکٹھا کرنے، ان معدنی وسائل کو اپنے استعمال میں لانے کی غرض سے یہاں اپنا جاسوسی نیٹ ورک قائم کرنے کے لیے یہاں آیا تھا۔ اب جبکہ طاہری مقصد یعنی اسامہ بن لادن ہلاک ہو چکا ہے پھر بھی امریکہ یہاں سے جانے میں لیت و لعل کا مظاہرہ کر رہا ہے اور مخلتف حیلوں اور بہانوں سے پاکستانی علاقوں میں داخل ہونے کے لیے بے سر و پا اور اوچھی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ پس پردہ مقاصد کی تکمیل ابھی نہیں ہو سکی ہے۔ افغانستان میں جب امریکی افواج داخل ہوئی تھیں اس وقت امریکہ میں ری پبلکن پارٹی بر سر اقتدار تھی۔ اب جبکہ اس جنگ کو ختم کرنے کا اخلاقی موقع آن پہنچا ہے امریکہ میں ڈیموکریٹس کی حکومت ہے۔ ڈیمو کریٹس جنگ کے جلد خاتمے کے حق میں ہیں جبکہ امریکی محکمہ دفاع ابھی اس جنگ کو طول دینا چاہتا ہے اور اس کا دائرہ کار پاکستان تک بڑھانا چاہتا ہے۔ مگر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اس کے عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چنانچہ جب مشرف ایک زبردست عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار چھوڑ کر ملک سے باہر گیا اور یہاں جمہوریت بحال ہوئی تونئی حکومت کے سامنے سب سے پہلے جو مطالبہ امریکہ کی طرف سے رکھا گیا وہ آئی ایس آئی کا دائرہ کار محدود کرنے کے متعلق تھا۔ ادارے کو فوج کی نگرانی سے نکال کر سول حکومت کی نگرانی لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جس پر عمل کرنے کا عندیہ وزیراعظم گیلانی نے دے دیا تھا لیکن پھر انہیں اس دعوے سے فورا ہی رجوع کرنا پڑا۔ جب امریکہ کو یہاں دال گلتی نظر نہ آئی تو موجودہ حکومت میں بعض کلیدی عہدوں پر فائز لوگوں کی مدد سے پاکستان میں کثیر تعداد میں امریکیوں کو لا کر بڑے شہروں میں ٹھہرانے کا پروگرام بنایا گیا۔ اتنی بڑی تعداد میں امریکی پاکستان لائے گئے کہ ہر طرف سے بلیک واٹر کا شور بلند ہونا شروع ہو گیا۔ عوامی جذبات کے ترجمان رہنما احتجاج کرنے لگے۔ ادھر امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی دھڑا دھڑ امریکیوں کو ویزے جاری کر کے پاکستان بھجوا رہے تھے تو ادھر پاک آرمی اور آئی ایس آئی آنے والے امریکیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھی۔ مختلف شعبوں میں تکنیکی ماہرین اور نہ جانے کس کس زمرے میں شامل ہو کر پاکستان آنے والے ان امریکی جاسوسوں کا مقصد پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینا، اداروں پر سے عوام کے متزلزل اعتماد کو مکمل طور پرختم کرنا۔ مختلف مکاتب فکر، مسالک اور لسانی و علاقائی گروہوں کو آپس میں لڑانا اور فوج سے برسرپیکارکرنا تھا۔ انہیں جاسوسوں میں سے ایک ریمنڈ ڈیوس بھی تھا پاکستانی سیکورٹی اداروں کی کڑی نگرانی سے بوکھلا کر دوشہریوں کو قتل کر بیٹھا اور پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ ریمنڈ ڈیوس سے برآمد ہونے والے ریکارڈ اور معلومات سے یہ ظاہر ہو گیا کہ سفارت کار کے روپ میں وہ ایک جاسوس تھا جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے جیسی مذموم سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد سی آئی اے اور آئی ایس آئی میں جاری سرد جنگ کھل کر سامنے آگئی۔ جس سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئیں۔ پاک فوج اور بالخصوص سیکورٹی اداروں کے لیے یہ گہرے امتحان کے دن تھے انہیں بیک وقت کئی محاذوں پر لڑنا پڑا۔ امریکی سازشوں کا مقابلہ کرنا۔ دہشت گردوں کی طرف سے ہونے والے رقیق حملوں کا مقابلہ کرنا اور انہیں ختم کرنا اور سول حکومت میں امریکی عزائم کی راہ ہموار کرنے والے عناصر پر نظر رکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

No comments:
Post a Comment