سیاست دوراں
تحریر: ظہیر باقر بلوچ
جن ایشوز پر ان دنوں مسلم لیگ ن کی قیادت تحریک چلانے کے ارادے ظاہر کر رہی ہے یہ کوئی آج کے مسائل نہیں ہیں۔ ججوں کی بحالی اور آئینی اصلاحات کے بعد انہی ایشوز پر حکومت پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت تھی جبکہ اس وقت مسلم لیگ ن کی قیادت چپ رہی۔ یہ تو بہت سامنے کی بات ہے کہ اس وقت ''گو زرداری گو'' تحریک چلانے کا مقصد صرف اور صرف آنے والے سینیٹ کے انتخابات سے راہِ فرار حاصل کرنا ہے۔ مارچ دو ہزار بارہ میں ہونے والے سینیٹ الیکشن میں پیپلز پارٹی سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیگی۔ جو آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ن کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ حقیقی جمہوری اقدار کا تقاضا یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کو جنرل الیکشن کی جگہ سینیٹ الیکشن کی تیاری کرنا چاہیے۔ توانائی کے بحران، معیشت کی بد حالی، کرپشن کے سد باب نہ کرنے، عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد میں لیت و لعل کرنے کے حوالے سے جہاں پیپلز پارٹی کی مقبولیت کا گراف نیچے آیا ہے وہیں پنجاب میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح اور ایم پی ایز کی طرف سے جرائم کرنے والے گروہوں کی سرپرستی، پنجاب میں یونیفیکیشن بلاک بنا کر لوٹوں کو گلے لگانے، دہشت گردوں کے حامی گروہوں کی حمایت کر کے انہیں تقویت دینے اور ضلعی سطح پر کرپشن عروج پر پہنچ جانے کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی شہرت کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے۔ عمران خان اپنی بے باک تقریروں کی وجہ سے نئی نسل میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ ان حالات میں یہ تجزیہ بالکل درست ہے کہ ڈیڑھ سال بعد ہونے والے عام انتخابات میں کوئی بھی پارٹی واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ یہی وقت ہے جب تمام پارٹیاں اپنا امیج اچھا کرنے کے لیے کوشش کریں گی تاکہ آنے والے انتخابات میں عوام کی نگاہوں میں بار پا سکیں۔

No comments:
Post a Comment