Tuesday, November 22, 2011

وسیع تر مسلم لیگی اتحاد اور شیخ رشید کا مسئلہ. سیاستِ دوراں تحریر: ظہیر باقر بلوچ

وسیع تر مسلم لیگی اتحاد اور شیخ رشید کا مسئلہ
مسلم لیگوں‌ کے وسیع تر اتحاد کی کوششیں تیزی سے شروع ہو گئی ہیں۔ حال ہی میں سابق وفاقی وزیر اعجاز الحق کے پھر متحرک ہو جانے سے قبل رواں ماہ کے آغاز ہی سے پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے سینیٹر اسحاق ڈار مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری شجاعت سے متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے ملک کے سینیئر ترین مسلم لیگی، سیاسی و روحانی رہنماء پیر صاحب پگاڑا کی خدمت میں اتحاد کی عرضی گذشتہ شب گزار دی ہے۔ چوہدری صاحبان اور خاص طور پر شاہ محمود قریشی کے لیے پیر صاحب کا کہا ٹالنا بہت ہی مشکل امر ہوگا۔ اب جبکہ مسلم لیگوں کے اتحاد کے لیے کوششیں تیز تر ہو گئی ہیں۔ اضلاع کی سطح پر لوگ تیزی سے مسلم لیگ ن میں شامل ہونے لگے ہیں۔ ایسے میں شیخ رشید احمد کا مسئلہ بھی حل ہو جانا چاہیے۔ شیخ رشید کا بھی عجیب معاملہ ہے۔ نہ بیوی بچے، نہ بنک بیلنس، نہ اثاثے، نہ جاگیریں، نہ ملیں۔۔۔۔۔ کیا تھا شیخ رشید کے پاس۔۔۔۔۔ جس کے چھن جانے کے ڈر سے انہوں نے منتخب حکومت کو ختم کرکے جبرا پارٹی لیڈر میاں نواز شریف کو وزارت عظمٰی سے علیحدہ کرکے جلاوطنی پر مجبور کرنے والے پرویز مشرف کا ساتھ دینا پسند کر لیا۔۔۔۔ نمانی جان ہی تھی جسے بچانے کے لیے فوج کو بدنام کرنے والے آمر جرنیل سے ملنا پڑا۔ وہ جان تو بچ گئی لیکن لیکن شیخ رشید کے پاس کچھ بھی نہ رہا۔ ان کا سب کچھ ان سے چھن گیا۔ جی ہاں ان کی جاگیر، ان کی ملیں، ان کا بیلنس، ان کا سرمایہ راولپنڈی ڈاؤن ٹاؤن کے شہری ہی تھے۔ جنہوں نے پارٹی چھوڑ دینے پر ان سے منہ موڑ لیا۔ ساری جاگیر اور سارا سرمایہ گیا۔۔۔ سارا بیلنس ختم ہو گیا۔ شیخ رشید کا اوڑھنا بچھونا سیاست ہی تھی۔ راولپنڈی کے عوام تھے۔ یہ قلندر صفت سیاستدان اپنی مخصوص چلبلی عوامی سیاست کے علاوہ دنیا داری کے دیگر بکھیڑوں میں کم ہی پڑا ہے۔ اول تو شادی ہی نہیں کی۔ پھر شیخ ہوتے ہوئے کوئی خاص کاروبار نہیں کیا۔ پلازے اور اثاثے نہیں بنائے۔ ان پر کمیشن کھانے، قومی دولت لوٹنے اور قرضے لے کر معاف کروانے کا کوئی مقدمہ سامنے نہیں آیا۔ حالانکہ وہ بھلا کب اقتدار میں نہیں رہے۔ شیخ رشید ایک فقیر سیاستدان ہے۔۔۔ ملامتی فقیر۔۔۔۔ شیخ رشید نے کئی عشروں تک راولپنڈی شہر کی خدمت کی ہے جس سے راولپنڈی کے شہری بخوبی واقف ہیں۔ سرکاری سکولوں‌ کی اپ گریڈیشن کے حوالے ان کی خدمات تاریخی نوعیت کی ہیں۔ راولپنڈی کے شہری اب بھی شیخ رشید سے محبت کرتے ہیں۔ الیکشن میں ووٹ نہ دینے کو تو میں شہریوں کے محبت بھری اجتماعی سرزنش ہی سے تعبیر کرتاہوں۔ رات گئی بات گئی۔۔۔۔ اب جبکہ مسلم لیگ کے اتحاد کی خبریں عام ہیں۔ شیخ رشید کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی عوامی مسلم لیگ کو مسلم لیگ کے مرکزی اور بڑے دھارے میں ضم کر دیں۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کو بھی کھلے دل سے شیخ رشید کو قبول کرنا چاہیے۔ کون ہے جو میاں نواز شریف اور شیخ رشید کے مابین فاصلوں کو کم کرے۔ پیر صاحب گولڑہ شریف ؟؟

Friday, November 18, 2011

Successful Test Fire of a New Global Strike Hyper Sonic Missile by US.


WASHINGTON: US has test fired a global strike Hyper Sonic Missile, says a defence official, reported BBC.
Missile fired in Hawaii which hit its 3700 miles away target successfully in half an hour. 

Friday, October 28, 2011

عوام بار بار اقتدار میں آنے والوں سے مایوس ہو چکے ہیں: صاحبزادہ فضل کریم


 بیس نومبر کا ٹرین مارچ پاکستان کی سیاست کے دھاروں‌ کا رخ موڑ دے گا
سنی اتحاد کونسل ووٹ کی طاقت سے انقلابِ نظامِ مصطفیٰ برپا کرے گی
غازی ممتاز قادری ہر مسلمان کے دل کی دھڑکنوں میں بستا ہے
پھالیہ، ڈنگہ اور منڈی بہاؤالدین میں بڑے عوامی اجتماعات اور جگہ جگہ استقبال کے لیے جمع ہونے والے پرجوش عوام سے سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حاجی فضل کریم کا خطاب
سنی اتحاد کونسل کے ترجمان محمد نواز کھرل نے میڈیا کو بتایا کہ ملک بھر میں میں سنی اتحاد کونسل کے رہنماؤں کا پرجوش استقبال کیا جاتا ہے اور ان کے جلسوں میں عوام کی کثیر تعداد شرکت کرتی ہے

عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی قیادت کا دورہء خوشاب

خوشاب: عوامی نیشنل پارٹی نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور اضلاع کی ترقی کے لیے بہترین خدمات انجام دی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار عوامی نیشل پارٹی کے مرکزی رہنما افراسیاب خٹک نے سینیٹر زاہد خان اور دیگر مرکزی و صوبائی رہنماؤں کے ہمراہ دورہ خوشاب کے دوران کٹھہ سگھرال میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشل پارٹی کی حکومت خیبر پختونخواہ میں ان اضلاع کو جہاں سے معدنیات نکلتی ہیں کروڑوں روپے کی رائلٹی دیتی ہے جو ان اضلاع کی ترقی پر خرچ ہوتی ہے۔ انہوں‌ نے ضلع کرک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال کرک کو معدنی رائلٹی کی مد میں پینسٹھ کروڑ روپے ادا کیے گئے۔ جلسہ میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ بعد ازاں محلہ بدلی والا خوشاب میں عمر خان مائینز کنٹریکٹر کے گھر پر ظہرانے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کالاباغ کے مسئلہ پر تین صوبے مخالف ہیں اور ایک حامی ہے نیز اس کے متبادل منصوبے موجود ہیں تو اس پر اصرار نہیں کرنا چاہیے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے حامیوں نے ضلعی تنظیم سازی کے لیے رابطوں کا آغاز کر دیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی ضلع خوشاب کی صدارت کے لیے مائینز لیز ہولڈر ملک ثناءاللہ اعوان کا نام زیر غور ہے۔ 

Wednesday, October 19, 2011

سیاست دوراں تحریر: ظہیر باقر بلوچ


سیاست دوراں 
تحریر: ظہیر باقر بلوچ

جن ایشوز پر ان دنوں مسلم لیگ ن کی قیادت تحریک چلانے کے ارادے ظاہر کر رہی ہے یہ کوئی آج کے مسائل نہیں ہیں۔ ججوں کی بحالی اور آئینی اصلاحات کے بعد انہی‌ ایشوز پر حکومت پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت تھی جبکہ اس وقت مسلم لیگ ن کی قیادت چپ رہی۔ یہ تو بہت سامنے کی بات ہے کہ اس وقت ''گو زرداری گو'' تحریک چلانے کا مقصد صرف اور صرف آنے والے سینیٹ کے انتخابات سے راہِ فرار حاصل کرنا ہے۔ مارچ دو ہزار بارہ میں ہونے والے سینیٹ الیکشن میں‌ پیپلز پارٹی سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیگی۔ جو آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ن کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ حقیقی جمہوری اقدار کا تقاضا یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کو جنرل الیکشن کی جگہ سینیٹ الیکشن کی تیاری کرنا چاہیے۔ توانائی کے بحران، معیشت کی بد حالی، کرپشن کے سد باب نہ کرنے، عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد میں لیت و لعل کرنے کے حوالے سے جہاں پیپلز پارٹی کی مقبولیت کا گراف نیچے آیا ہے وہیں پنجاب میں‌ جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح اور ایم پی ایز کی طرف سے جرائم کرنے والے گروہوں کی سرپرستی، پنجاب میں‌ یونیفیکیشن بلاک بنا کر لوٹوں کو گلے لگانے، دہشت گردوں‌ کے حامی گروہوں‌ کی حمایت کر کے انہیں تقویت دینے اور ضلعی سطح پر کرپشن عروج پر پہنچ جانے کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی شہرت کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے۔ عمران خان اپنی بے باک تقریروں کی وجہ سے نئی نسل میں‌ تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ ان حالات میں یہ تجزیہ بالکل درست ہے کہ ڈیڑھ سال بعد ہونے والے عام انتخابات میں کوئی بھی پارٹی واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ یہی وقت ہے جب تمام پارٹیاں اپنا امیج اچھا کرنے کے لیے کوشش کریں گی تاکہ آنے والے انتخابات میں عوام کی نگاہوں میں بار پا سکیں۔ 

Thursday, October 6, 2011

Tuesday, September 13, 2011

District and Sessions Judge Khushab Mian Muhammad Ilyas transfered to Layyah.

KHUSHAB: New District and Sessions Judge Sanaullah Khan Niazi has took over the charge of Judicial Administration of the District.